1. قبرستان البقیع اہل مدینہ کا قبرستان ہے یوں اس میں زواج مطہرات صحابہ کرام اور تابعین کے علاوہ مدینہ منورہ میں وفات پانے والے ائمہ کی بڑی تعداد بھی دفن ہے بعض کے بقول قبرستان البقیع میں دس ہزار صحابہ کرام مدفون ہیں۔ شریعت نے یہاں جاننا ضروری سمجھانہ اس کی حوصلہ افزائی کی کہ قبرستان میں کہاں کہاں کون کRead more

    قبرستان البقیع اہل مدینہ کا قبرستان ہے یوں اس میں زواج مطہرات صحابہ کرام اور تابعین کے علاوہ مدینہ منورہ میں وفات پانے والے ائمہ کی بڑی تعداد بھی دفن ہے بعض کے بقول قبرستان البقیع میں دس ہزار صحابہ کرام مدفون ہیں۔

    شریعت نے یہاں جاننا ضروری سمجھانہ اس کی حوصلہ افزائی کی کہ قبرستان میں کہاں کہاں کون کون دفن ہے۔اتنی اجازت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے کہ قبر پر بطور علامت پتھر وغیرہ رکھ دیا جائے لیکن آپ نے قبر کو پختہ کرنے اس پر عمارت بنانے اور کتب لگانے سے منع کیا ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پر بیٹھنے اسے پختہ کرنے اس پر عمارت بنانے اور کتب لگانے سے منع کیا تھا۔

    پتھر کی علامت نہایت عارضی ہوتی ہے ایسی علامت کچھ ہی عرصے کے بعد مٹ جاتی ہے مطلب یہ کہ شریعت کے نزدیک یہ جاننا ضروری ہی نہیں ٹھیک قبر میں کون مدفون ہے دراصل شریعت کا کوئی حکم اس سے متعلق نہیں کہ صاحب قبر کون ہے یہی وجہ ہے کہ قبرستان البقیع میں موجود قبروں کی علامات بھی کی تھی وہ بھی تو عارضی تھیں یوں آج ہیں اس میں کسی قبر کے متعلق یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ یہ فلاں صاحب یا صاحبہ کی قبر ہے۔

    See less
    • 0
  2. اس جادوگر کا نام لبید بن اعصم تھا جادو کا اثر چالیس دن رات تک رہا اللہ نے صحت یابی کے لئے سورہ ناس اور سورہ فلق نازل فرمائی۔

    اس جادوگر کا نام لبید بن اعصم تھا جادو کا اثر چالیس دن رات تک رہا اللہ نے صحت یابی کے لئے سورہ ناس اور سورہ فلق نازل فرمائی۔

    See less
    • 0
  3. مکہ معظمہ کی بنیاد آج سے تقریبا چار ہزار سال پہلے 2200 قبل مسیح میں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے رکھی تھی۔

    مکہ معظمہ کی بنیاد آج سے تقریبا چار ہزار سال پہلے 2200 قبل مسیح میں حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہ السلام نے رکھی تھی۔

    See less
    • 0
  4. قیامت کے دن اعمال کا وزن حضرت جبرائیل علیہ سلام کریں گے۔

    قیامت کے دن اعمال کا وزن حضرت جبرائیل علیہ سلام کریں گے۔

    See less
    • 0
  5. فرشتوں کی پہچان سفید عمامہ تھا جن کی شملوں کو انہوں نے پیٹ پر چھوڑ رکھا تھا ہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سر پر زرد عمامہ تھا۔

    فرشتوں کی پہچان سفید عمامہ تھا جن کی شملوں کو انہوں نے پیٹ پر چھوڑ رکھا تھا ہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام کے سر پر زرد عمامہ تھا۔

    See less
    • 0
  6. شروع اسلام میں معراج سے پہلے 13 برس تک کوئی عبادت نہ تھی صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا ہی عبادت تھا اور اس وقت فوت ہونے والے مومن سب جنتی تھے۔

    شروع اسلام میں معراج سے پہلے 13 برس تک کوئی عبادت نہ تھی صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانا ہی عبادت تھا اور اس وقت فوت ہونے والے مومن سب جنتی تھے۔

    See less
    • 0
  7. حضرت عبداللہ بن حجش کی تلوار ٹوٹ گی اس تلوار کا نام عرجون تھا۔

    حضرت عبداللہ بن حجش کی تلوار ٹوٹ گی اس تلوار کا نام عرجون تھا۔

    See less
    • 0